رہ ےہەط65ہ1ط . ڑج دصں ج2// : ۹ط
خلاصِةٌ الْفَّحَاتِ البَارَة فی ججواز القول بالحمسة الطاھرة 1 خلاصًٌٍ الْقَاتِ البَاجِرَة فی جوازِ القّولِ بالحمسة الطاھرة 2
خلاصة النفحًاتِ الباهرۃ نامکاب: عافر الضات اتی کردائرل راستماطائنے
فی جُواز القول با ٠ : الطاھرة ( پپشن پاک اودہارہامام سی تنک جاز)
7 مُولف: شس من دمحم شھٹھصوبی لسن ری نکی علی ارہ
( نچپشن پا کاو نبارداماع کن کا جواز)
متری خر وی : رت عاا میمغتیخمرعطا ال ھی حفظہ اللہ تھا لی
مولف
شیخ الإسلام المحدذّث المفیّر الفقیه معاون: شرأسامہقادری
مخدوم محمد ھاشم التۃ ی الیّندی الحنفی
: اشاعث : بصب۱/ جے ۱۳۳۹م ١| 6ء
(التو ٢ٰ ءا١ے) َ ج یئ 2
ترجمه وتخریج وتحشيه اشاعتٹم: 289
جن ایر یٹ نت یج رعطاانڈرتی
ا یت اشاعت ائل سنت(پاکمتان )
(شیخ الحدیث ورئیس دارالافتاء بجامعة النور)
ور سر کانغزی)ا زارھنواوں ایا
ٹ٥ن:وو324397
ار
7 اشاعحعت انت( ماکان ) ری پیرہالہ 1 131133. ۷۷۱۷۷۷۷ بر ہجوردے
“ بہٹ 01
و سح کا نی بازارہ ڈیٹھادر کر اتی وو ن:32439799
(61ا٥٤ ۴١۱٢ ۱۷۸۲۴۷١٢١ یاہە-8
5]٤]5:/3۲۲ا۱۷۵۰۶۲۱/۸۰۲3۱[ا۱۹/)0020131[ا0ان3۹3013113۷
ہے ط1ط . ےط درصں ج2// : ۹ط
خلاصًٌِ الات البَاِرَۃ فی جَواز القُول بالحمسة الطاھرة 3
ثنظ
حضرتے ما مہمو( با خر مگمووس را وی حفظہ ال تال
ایک متدی طالپ عم پ بھی ىہ بات اظبرن اشس ہ ےک کسی ف نکوسبچھن کے لئے
” اصطلاحات“ کی بہت ایت ے اخ راصطلاحات جان ےس یکنا بک وکچھنا مکل ہے بی
وی ےک مالین نے اصطلا حاستیفنون پ با قاعد مک ھی ہے۔ لا: کب فک مطالنہ
کرت ہوے پپالفاظ''فقہ العبادلہ 'ا"رأیىت العبادلة الثلالئة یفعلون ذلك"ڑ عۓ
س7آ تے ہیںء ایک اصطااح ہےء اس ھرا وت ن ھا کرام( عبدالل من عح پاش برای نگھر
بن نطاب او ردان الر یی ریش انٹ نم ہیں-
یں !اش ار چون این“ وظیرداصطلاحات ہیں ۔ ان اصطلا حاتٹ
پرکوئ نٹ واردفیس ہہوئی ہق مان یل شرحدبیٹ مم اورشہ یی خا یکا قولی ہے۔ااس کے
با جودیاصطلاحات بلاکی جار وسارکی ہیں کی ن ےکک وانے پراعتراخ سکیا اورن یع سی
ے پڑ نے دالے پکوئی فگمیر یکی۔ پک اگ رکوئ ین مفرددواحرکسی جن کےمتعلق اصطلاح
مقر رکرتا ےتذ خلا شقن اہ کی اصطلا ح ذکرکرنے کے بعد کھت ہیں:
بیفلا لک اعطاح ےاو ر٣ مق اغافی الاضطلاح “(اصطلاح میں کوئی
ضائتیں)۔
جب بی سب اصطلاحات جادگی وسمارکی ہیں اوراصطااح کےمقررکر نے می ںکوئی
مض کت بھی نہیں فو پھر خ۳ش ن “اور نبارہ اماعم “کے الفاظ پہ واو یلا کیوں؟ بھی فے ایک
اصطلاح ےک" چش ن “سے مراد پاچ فی قرسیہ (ٹ یکریم صلی الظر علیہ ویلم؛ حضرت
صلی بححضرت فا لال ہر رححضرت امام تن وین شی انلم راد میں اور ار اما“ سے
خلاصِةً القحَاتِ البَاِرَۃ فی جَواز القّولِ بالحمسة الطاھرۃة 4
ال بیت کے پاارو دی صفات انائ مراد ہیں -
رر کے تو عرمہث مارکہ ٹش گار سان چرام لم وٹین
حضرت یرتا عا تشد یق شی الڈرعتہافر بای ہِں:حَرَج البّی صلی اللهُعَلْه وَسَلَمَ
غَدَدهً وَعَلَيْهِ يِرُط مُرَكُلْ مِنْ خَعْرأسُوَد فَعَاءَ الَحَسَنُ بنْ عَلِي فَأَدُعَلَه لم جَاءَ
الْحْسَیْنْ فَدَحَل مَعَه تم َاءَ ث فَاطِمَة فَأَدُحَلھَا تم جَاءَ عَلیٌ فَأذْحَله تم قَال :٭انَما
يَرِیڈ الله - عَنْکُ الرِجس َعْل الج و بطِھرَكُم تطهی را4 (پ: ۲٢ الاحزاب؛
۳٣)(صحیح مُسلم :کتاب فضائل الصحابة رضی الله تعالی عنھمء باب فضائل اأھل بیت النبی صلی الله عليه
وسلم:رقم 2424)
ای کک کو نی مکی ایل علیہ یلم باہرتشریف لے گے :آپ پرکالی او نکی لوط چا دنین
ان لی کے جضور نے !یں داش لک رلماءپچھر ناب ینآ ۓ و ہی ا کے سماتقعھ داش
ہوگئےء پھر جناب فا ہآ میں انی سبھی داش لکرلیاگیاء پھر جنا بل یہ ے انی بھی واشل
کرلیا۔پچلرفرمایا:اے نمی کےگھردالو !الد چاہتا ےکتخم سگندگی دو رکردے او رق مکوخوب
اک وصا ف ہادے۔
مفت رش یم اامت حضرت علامہمضقی اتد یار خان یھی علیۃا لحم اس عدیف
پک یت کھت ہیں : خالی ر ےک لفظ جن پا انل حد یث سے لیا گیا ے۔
(مرآة المناحیح :کتاب المناقبءباب مناقب اھلبیت النبی صلی الله عليه وسلم؛الفصل الاولءرقم
6 ))۶
ایل اورءرہث سن .و سُعید سار قَال: قَال کو الله
صَلّی الله عَلیه وَسَلَم :رت مَذِو الايَة فی عَمَسَو :فی وفی عَليٰ رَضِیٗ اللهُعَنه
وے عَسَر رَضِی الله عَنهُء و حَسَیر رَضِی اللَهُ عَنهُء وَفَاطِمَة رَضِی اللَهُ عَنھَاء٭إِنما
رِيد اللَهُلِيْذْحبَ عَنكُمُ الإْحُس اَم البيْتٍ و يُطھْرَكُمْ تَطهِیراچ4 (پ:٢۲ء الاحزاب.
(61ا٥٤ ۴٢١٢ ۱۷۸۲۴۷١٢١ 8-ەہا٥ی
5]٤]:/3۲۲ا۱۷۲۰۶۲۴۲۱/۸۰۲3۹٠٠٤/)٥020ا131[0ا 3330131131
رہہ . عہ,ٌّ٭16ط . تہ وجرصیں ج2 // : ٭>ہغط
خلاصًٌِ الات البَارَۃ فی جَواز القُول بالحمسة الطاھرة 5
٣)۔(جامع البیان عن تأأویل آی القرآن:سورة الأحزابء تحت الآیة ۳۳ء 102/19)
تی ہحضرت ال ویسعی رخ دریی ری الڈرعنہ سے ددایت ےر ات ہہ نکی یک رب مکی ال علیہ
لم نے ارشادف مایا: یت پاری(چشن کے بارے میں از ہہوئی :می رے بی نہ
ین اورفا لم کے بارے می ۔ ھجلا وت فرمائی۔
یک رسکی اوعلی ےلم نے خودا پناز ہا ن مبارک سے صن“ کالفظارشاد
فرماداادرگ .ےس “سے اپٹی مراوکوشگی ظا ہرذ مادیا۔ ا کا مقصمدپیئی لک معاذ الندان
پا کے ساب یکو پا کیل مات ء جار ےغز دی کتضورعلیالسلا مکی از واج مطیبرام تھی
1 نیش شال ہیںءاسی لئ ہم ان کےساتمط رات کا لفظ لا زئی طور برا قعا لکرتے
یں اوران کےعلادہ ال دتحاٹی کے بے شا رمق ںحوب بنرے ند یال مین پاک ہیں او رہم
ا نکیا 1 و یں پا “و نل ےکی وبصرف بر ےک حدی ث مقولہ
لامش خودتضورعلی السلا مکی ز پان مارک سے تمتۃ “کالہ اداہوا او را سک انیل
بھی خو تضو علیہ العلام بین فرمائی-
راس طر کے اعتراضات وسوالات ہردور یش ہو تے ر سے ہیں اورابلیپعلم ان
کے جوابات دی ر سے ہیں۔سندتھ کیعلم دادب کے جوانلے سے جین الاقوا می شہرت با فتہ
شمط ےلت رکے والے اٹھارو یں صدری عیسوی کے شی مت ث داضت روزگا رفتیہ ممیوں
مب کے شعقف شی ااسام ایزے امب لق موم حاشم الو اعد نی
(م1174:ھ)علیرال رم کے دوری س بھی چیشن پا کاو نار دامام“ ین والو ںکورانشی
اورقہ جا ےگ نک نف القاب سے ملق بک یاگیا۔آ پ نے" یجن اور رومام“ کے کے
پارے یں ایک سال ہیام ”حلاصِىةُ التْفَعاتِ البَاهِرَةفی جَواز القول بالحمسة
الما ہر “جا لیف مایا ء جس میں مکورہ الما طط کے برلو لکاداائل سے جازخاب ت فرایا۔
خلاصِةً الْقّحَاتِ البَاهِرَة فی جُواز القُول بالحمسة الطًاھرة 6
بی رسالہ فاری زبان میں ٹھاءجٹس پر ترجھ خر او رت کا ام مصتفء
شش ممتریم شی لیے ححضرت علا موا نا مضقی مر عطاء اڈ ٘ھی مت خلّہ العالی نے اشچام دیا
ہے۔ صے جحجیت اشاععت ائلِ سنت اپنے سلسلہ اشاعت نر 289ب شا عکرن ےکی
سعادت حاص لک رجی ہے۔دعا ہےکہالل تال اپنے عیب لی امڈرعلیہ ولم کےصدرتے و
ٹیل مصتف ہ مٹیم اور جملہمعا ین وا شاعع تکا را نکوائ ںسھ یکوارتی ا رگا و یش قبو لف مائۓے
اورا نکی دی گی خدمات می روزانمزوں تر قی فرماۓ_
آ ین چاو انی الا شن لی ا علیہ یلم
خر گوس رسالوی
0 یل2018ء
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۷۰۴۷١٢١ یاہہە:8
5]٤]ہ5:/3۲۲۱۷۵۰۶۲۱١/۸۰۲3٠۱٤/)020ا1 ا310 3 ۹30131131
رہ ےےە7ّہ٭ی168ط . تطہ درصں ج2// : ٭>ہغط
خلاصٌَِ الْقاتِ البَاجرٰۃ فی جَواز القّولِ بالحَمة الطاھرة 7
تا تھی ار کے لے ہیں اورد( رکا م کے لئ بکاٹی ہے او راس کے ان بندول بسلام
ین ان دا جا
اوربروسلام کے إجر!
قب رحضرت بادشاہ بے میا زکی رحم تکا ا میروارہ پاشم ین عبدالففورسن دی الڈد
تنالی اس کے حا لکوا پچ اکر ے اور س کے انا مکو ان ہنا .تا سے :
یقن ضن یس آ ہا ے رین بین ن کہا ےک جن بھی پا نو کر یس
رن بک کے اف کا اطلا نکر ےگاء وہس رای ہوگااور جوبھی با رہ محروف فو
کم یہ پر بارداما مکااطلا یکر کا٤ دہکاف رہوجا ت گا والعیاذ با تھا ی
یں میس ت کہا ککگرو ہ اي اسلام اورحضریت س برک نات علیہ انل الصلا
والسلام کےئُ۰دا مکی جماعت ہی اور بپشیدہ نر ےک مشپور ہو چکا ےک لوک جن
اک کا لفظ لو لکرااس سے مراداڈ لین وخ بین کے سردارححضرت ( مر )صکی وڈ تعالی
علیہ ول ےلم ء(حفضرت) علی الرننی بین (کرکیین )اور( حضرت فا لہ )ان ہرارشی
ال تھا لی عنہا تج مراد لیے ہیں۔ او یہابت ہے ا راس اطلا یک میں ال
(ولیل )نم لموسین ححضرت ع تشہ نشی الد تاٹی عنہاکی عدیت ہے : فرمانی ہی ںک ایک
روز کے وقت رسول اڈ ٥کیا لی علیہ دآلہ یلم باہرتش ریف لا او رآپ نے سیاہ
الوں سے بن ہوئی چادراوڈمی ہہوئ یی ء یں حضرت سن م نع یآ فذ آپ نے انی
اس میں واشل فر مالیاء پھر خر ت می نے میں وہ ان کے ساتھ (چادرمیس ) داشل
خلاصِةً الْقّحَاتِ البَاهِرَة فی جُواز القُول بالححمسة الطًاھرة 8
ہوگۓء بک رحضرت فا مآ تی 2 آپ نے انیس وائل فرمایاء چ بتک یآ ے نے آپ
نے انیل( بھی دا مایا کلف مایا ل(ائ ںآ بی کر بی کی حلاوتغ راگ )نما ید الله
ليْذُبَ عَنكُمُ الرِْحُس اَهُل الِیّتٍ و يُطھْرَكُمْ تَطَھِيْرَا 0(الأحزاب:٣٣/٣۳)
ار چاہتا کے اے بھی کےگھرد الو تم سے ہرنایاکی زورفا اونفان اک
کر کےقو ب سخ راکردے۔ کن زالا یمان )
رامسم نے انی ٹیس ء امام ار نے ایی نر یس امام ئن الی شب
0
نے اپئی”نشصقف یس ءائین جب اوران الی عاتم نے اپنی ای تی ریش ا سکیف
فمائی ہاور سکیاشل ام ال نین حفرت ام میتی اتا عنہا سے م روگ ایام
عاکم نے اپی مد رک یش :امام طبرلی نے ای مم می این جرمیء ان من ران
۵ 20
ححضرت او سعیدرخ ری رش ال تھا لی عحن سے مدکی ہے اورا سے امام تر رکی اورامام الم نے
کچ تراردڑے۔
اورای طرب بر داصلی الد تما ی علیہ دآلہ لم 2 برورد تفضرت لہ ری
اتی عن سے مردی ہے بن کین تناما تر نی نے اپی”تض نیس امام برای نے
انی میس ابن جر اور این مردو “نے اپنی ای ”تیر“ فر مکی ہے۔ سی
کیل حفرت واخلہ لن الاستع رصی اود تی عن سے مر وی ہے + جن سکیخ زم امام اح نے
اپکینئسند یس این ای شیب نے ای نمصق فیس ء اما تابلی نے ای صن یش ء امام
طرانی نے اپئی” عم“ می سک اورامام حاکم نے اپنی نت رک می سک قراردیا۔
اوران جرب این الم ر اود این الی عاتم نے اپنی اپ ظھاسیر مس (ا کی
(61ا٥٤ ۲٢١٢ ۱۷۸۰۴۷١ یه8
5]٤]ہ5:/3۲۲ا۱۷۲۰۶۲۴۱١/۸۰۲3٠[ا۹/)020131[مات 3۹3131131
رہہ . ےہطْ٭ہ1ط . تطہ جرصں ج2 // : ۹ہ غط
خلاصًٌَِ الات البَارَۃ فی جَواز القُول بالحمسة الطاھرة 9
نہ کی ہے یزاس یکیشل حضرت ابوسعید در رش الظدتوالی حنرے بوج در ان
الفاظ سے مر ئا ےکہ :یآ بیکہ یمہ پاچ (ہتتیوں کے بارے میس نازل ہوگی: نھ یکریم
صلی الد تفا لی علیہ وآلہ یلم بحضرت علی : حضرت فاعط, حرت (امام )سن ؛حضرت
(امام بین رشی اللہ تھا یٹم ۔ امام اد نے اپی نمس د“ میس ا سک خ رج فرماکی
ے۔ نز حطرت ا وسعید خدریی شی اتی ععنہ سے مرودکی فو عدیت مج ںنآیا ےکہ
مد اصلی اویل تھالی علیہ لہ لم نے فرمایا: ”نی آی کر یمیرے ہی فالمہ رن اور
ین کے پارے می نال ول ے'۔ ۱
امام اج نے ”تاب المنا قب اما طبرالی نے اپٹی” حم“ ء ان جم راورابین
ال عاتم نے اپنی اپنی نناسی رٹ ا لک تخت فرمالی ہے۔ نیز روابی ت بھی ححت کے
اق مروی ےک یٹس وت حضرت ب رم اصلی الیل تھا لی علیہ وآلہ یلم نے ان پر چادر
ڈالی سی وقت ان کب میس دعافرمائی او رھت کی :” اے ال دا ہمیرے ائلي بیت اور
بیرے خاضس میں ان ے نا پک یکوڈورفرہا رے از ان رہ بنا ہۓے ہیں دما مّول
ہوٹی اود مور ہآ گر ا سی وف تآ پ پنا راوات
ا لآ یکر بی اوراحادیثٹ شر بفہ کے جھو سے سے معلوم ہوا انوس مطکہرہ پہ
لف ا2ن“ کا اطلاقی چائز اورثابت ہے اورا کا انار جبالت ہے اور( اس کے ) قوائل
کی طرف رف ضلکی خبد کنا تب ( ہک ری ) اورعناد( عفحض ) ہے۔ اکر چہعلاء
ات فرماتے ہی کہا ںآ یکر یہ یس( پکور) طہارت پا نوس مسطورہ کے سا ھ
خی یں ہے ء بلہ جم ال بیتہ ازداج مطبرات دیرم کو عام ہے نیز اس
قاعرے کے واسلے سے چیلم اُصول میں غایت ےک اختبارگموم لف کا سے نہک تو
خلاصٍة النقحَاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 10
سب بکا“'اس کے پاوجودافظط”نجش نک اطلاتی کین کے منائی نہیں سے کی ون شرع
مفہوم عدر وت ری اور عدد یلص لانا نی پر ولا نہیں رتا“ اکریل الا صول یں
ثابت ہے۔ لی انس لف اکا اطلاق خمام ابل بیت یی از واج مطہرات او رآ گی پعپاس دخ رہم
شی الیل تھا ینم سے طہار کی بر ولا ت نمی سکرتا۔ ناو نو ںکر یرمع روف ]جن
دہ یں صا جن یں جن کی بشارت دی گنی )نشی او تل یتنہم رعش رد میش رہ“ کا اطلاق
جا ہے۔عالائک رد اصسکی اتی علیہ لہ لم نے ان کےےسوادوصرو ںوی جزت
گی ہثارت دیی ے جیےحطرتعبدرارڈ بین مسعودہ( أم الم ومنین ) حطرت عا کش صد تہ ؛
ا ہریرہ ء فا مز جراء تن او رین وی رم رشی او تام ماک احاد یه ث تع
صرپیرمیش واردےاورجو(مشپو تم )علامہ بیفما وی نے ذک رکیا ےکہ شیع (گروہ )کا
لفظ ابلِ بی تکوحضرت فا مہ حر تی اوران کے دو بیٹوں رش اڈ تھا ینم کے سساتھ
خاش صکرنا اوران کا صصمت پراجما شت ضیف ہے ؟کبوکلہ ان (نفویں )کو اح صکرنا آیے
کربیمہ کے اٹل اور مابعد سے مناسب یں ے اورحد بیث شر فک تقاضا میا ےک ب
بک ہبیت ہیں اض ایل ےک دوسرےابل بی ت یں ہیں اور ہم بیلے ذک کر جج ےک لفظ
عددکا ریش پر واال نمی سکر اورتضحیف طہار کوحصمت پگمو لکر ن ےکی طرف
راخ سے جو گنایہوں ےھر :ہو نے کے و ہجوب کےسمئی ےر
قول ے اوراہسقت أے یں مو لکہی ںکرتےء بلمراس طہار تکوشرک پر نات اور
سلب ایمان سے یی بر او رئش جوم میں بمیشہر ےہ بلہ نا ینم میس دائل ہونے سے
نے و لکرتے ہیں۔ بیشن ہےکہ بی طہارت مذرکودہ پا پاکوں کے سوا تضور علیہ
ااصلاۃ والسلام کے ہم اب بب تکوعام ہو اس ل ےک ححطرت عمران بی نصشن ری اد
)61ا٥٤٥ ۴١٢ ۱۷۰۴۷١٢١ 8-ەہہا٥ی
5]٤]:/3۲۲۱۷۵۰۶۲١/۸۰۲٣۹٠ا٤/)٥020ا13۱[5ا 3۹30131131
رہہ .ےہە ط1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلامٌَِ الْقحاتِ البَاجرٰۃ فی جَواز القولِ بالحمسة الطاھرة 11
لیکن سے مروئی ےک رسول ا ل٥ی ال تی علیہ لہ لم +80٤0 -:
رب سےعوا لکیاکمیرے اب بیت میں سےکوئ بھی آنس جم میں واشل نہ ہونو ( اللہ
تما ی نے بیللقت ) مھ عطا فرمائی۔اا سک افخ جع این القاحم ین اشیرنے اپٹی نمی یس
فرمائی ہے اور ہیا تھا لی شائ کی وسحعت رحمت اور رسول ایی اویل تھا لی علیہ لم سے
کا لپل سے یں ہےاورامی ہار تک وجہ سے ان بر دوصدا تترام کے ہیں ج
لووں کے(ما لکی مل ہیں۔ لی وروگ کر نا جا ہے۔
پارەالام:
راب بت شریف ن وی کے پارونخو يکر بی مروف لے پرلفط نبارداماع“ کے
اطلاق کے نیش ان لےکرجخرت جا کرد شی الال عن ےچ عد رٹ می
لے بارونقو کر یمم روفہ :ال سے مرادوہ بارہامام میں ج نکی ابقرا م ضر تک کرم ال وج انکریم سے ہوک ہے اور
اققام امام ہدیی پر ہوناے اور امام ای کے قائل ہیں اوراس برعلا ین طولون دشقیمتولیٰ ۹۵۳ھ 'الشّذراث
الذْعَبیة فی تَراجم الأشمة الائنی عَشٌر یِنڈ الامامیة “ےنام سے طف٦ نیف ےاورااس بی جن پاردائ کا
تن زکرہ ہے دہ یہ ہیں : پیل حضرت لی بن ال طالب دش ا رعنہہ دوصرےحضرت امام سن ب نعلی شی ا رنہ ہتیصرے
ححضرت تین ب نپ شی ارڈ نہماء چو تے ابواس علی نیشن شی ال دعنہ جوف ین الابد ین کے نام سے مروف ہیں ء
ابچ میں ححفرت اوڈٹتفرشھ بن ز بن اللعابد بن دشی شعن ہیں جوامام بات ر کے نام سے مروف ہیں ء نل حضرت ا وکبد الد
شمفرصادق رھ اق شی اڈ معن ہیں جوصادق کے کقب ےپور ہیں مسا تی ابواسن موی کاشم ین عفر دق ری
العن ار بخداؤیٹش ےک کرت عباد تک وج سے نیس عبدصا کہا جا تھا شھوریں پوس نمی رضابن موی
کم ہیں نوس افش الچواد بن لی الرضاء دسومیں اون مکی البیادگی بن مہ الجواد میں ممگیارہو مس ابیش سن ین
عمبدالہادگی چوک نصسکربی کے نام سے مع روف ہیں اور باہو میں الوالقاسح ھب ن سن ہیں جن امام کےعقیرے کے
مطابق بارہ بس امام میں اور بت کے نام سےمعروف ہیں اورشیعہ کےکمان کے مطابق شنظر فا م دم ہبی ہیں ۔اسی طرح
علامہشبدالنن جائی علیہال رج کی ارد امام کےعنوان سے ایک طف لتصفیف ےک جن س کا مول ن اوالطیب مم رشریف
قنشنربی نے اردوز پان ٹیل تر ج کیا ا ری در الا شاعت لا ہورنے شا کیا تھا
خلاصٍة النقحاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالحمسة الطُاھرة 12
وارد ےک رخ اصلی انتا لی علیہ لہ یلم نے فرمایا :”وین پھیشہقائم رہ ےگاء یہا
ت ککيتق پہ بادہغلظاء( حا ہوں سب ق ریش میس سے ہوں گے“
ا حد بی ش ری ککوامام ات نے اپٹی” نم رہپ کےفرزن دع دربن اتد
نے تر رز اتور “میں ءاما مم سسلم نے اپنی میں معز ححر داہانیر ےاورامام اإوداٗدء
اما تر نکی اوران کے علاو مر شن نے الفاظطا ےيل اختلا ف اوراتادنی امھ کےسا تر
روای تکیا ےگر بیشارر اریم اورآپ کے اصحاب مکی او علیہ وآ لہ یلم وی اش تا ی
تنم سےالن بارہمطا ءکی وضاحت میں ایا وار وی ہوٹی ہے جوقا مع خز اح ہو۔
لماع اہسقّت اس حدی ٹکوخلافت ظاہرہ عو لکرتے ہیں اود کی طنی سے جھ
ع بی شرف کے ظا ہر الفاظطا کے موالن ےگرآن کےبھی اس بس پا یا ملف اقو ال ہیں :
بی ےکہاس سے مراد دہ طلفطا ء ہی ںک ہی نکی غلافت پر اما ہواہواورلوگوں
نے ا نکی یعت کے لے فرمانبردار کی ہو ءاگر چران ٹم لکمر نے میں سن یکی علاممت
وق اپ موی ہوء الس سبب ے جو نکورحدییٹ کےپنن سط زی جج یس واج ہواہے_
لن ای دا دوشمبرہ میس برلفظظ زیادہ ےک :ناد ہ ظا کہا ن قرام برلوگو ںکا
ایشا ہوا مو تی
یں دہ ترتبیب وار چارول بڑے فلغاء ہیں ان کے بح دخرت معا ویر ری ال
تقزای نہ ؛کرونک لم ار بت کے بداو نیف تے بات ححضرت سن منپھلی ری الد تال
نکی جاب تاورٰہنفل نحطرت امہ رمحا وی شی ارڈ تی ع نکی جا ہبگمراس وقت لوگوں
نے ححطرت ام رمعادی رشی اللدتھاٹی عنکی خلافت پرا نا قکیا ٹس وقت اما تسن نے
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۷۸۰۴۷١٢١ یكاہہە-8
5]٤٥٥:/3۲۲ا۱۷۵۰۶۲۱١/۸۰۲3۱[ا5/)0020131[ا0اا13۹3013113۷
رہہ .ےہە ط1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلاصِةٌ الْقَاتِ البَاِرَة فی جَوازِ القَولِ بالحمسة الطاھرة 13
آ پا الد
دوسراثول:
ےا سے مرادوہ خلا ہیں جو عرالت پل کریی(شتن عمادل ہوں)
اورتا بعدار کی راہکی رعای تکر بی ءاگہ چرلوک ا نکی خلافت پش نہہہوۓ ہوں۔ نر
ان یش چار بڑے کلف نضرت الوکر تفر گر حرت عمان رت “لی رشی اتال
تنم ءاما تسین بنگلی ءمحا دی جھبد ا جن ز ہی راو رح جن ہدایز شی اڈ تھا جم ہیں
اور بائی چا رغُلفا ات کزا رک انین فیات کے روز گن و00
ان یس سے ای کآ خ ریز مانے بیسآ نے وا لے امام مدکی ہیں-
بی ےک ہ(دداجیت میں )ذک کرد ہھلفاء سے ماوق ران ال کے خلا وہ ںکژشین
کیا خلافت پے در ےگی۔
یں اس تق را نکی ابنتراء فا حوار یع( رت الوک عم عثان اوریلی )رشی
ا تھا ینم ہوں کے اور نکی انا ء خر تع رین عبدالہنزیی کک ہوک یکاس مرت کے
درمیان چودوخلنماۓ ہوئے:أن مٹش سے دو پپے ےکن نکی ولا یت ہے شی اورا نکی
رت لو بل نہد گی :ایک معاو ہن مز دہ دوسرامروان ب نلم اود اتی ار اف راداگا ا رخلیضہ
ر ہے اورصخر عم رین عبد ال کی وفا تن ایک سو ایک (۱+۱) جج ری میس ہوٹی اورآن
کے بعدلوگوں کے احوال تق ہو گے اور پکی وفات کے ایام یں قرب اڈ لم ہ وکیا گر
اس قو ل کا موجب برلقفاحد بیث ےک أآن سب پرلو کن ہوں گے“
خلاصٍة النقحاتِ البَاجِرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 14
حضرت امام سن ب نعل ء ضر ت عبداوھ جن ز ہی ررشی ال تھال ینبم ا نکی صحت ولایہت
(حاکبیت )کے پاوجودان کے ز مانوں میں ضا لب ؛ُمورسعم تے اوروہ جوا نکی ٹن برت
یں عدم اننظام کےا مورنپور پذ ہو ے وواستنقاممت دا ظا مکی با بت نادر ہیں
چو ما تول:
بی ےکمہائس سے مراد ہار لفغاء ہیں جو ایک بی وفت بی پیدا ہول اورااس میں
کوکی شح ک نی ےک ایک می ز مانے میں کلطا رک یککثزت شہروں می ںکشزت فلن وش رکی
موجب ہوگی او رخالشت ءتاز عا تکا سپ او زوین کک دک ےکا اور
حا ا این ۰ئ 9 و ے اورفرایاٴ ےکہ لفظا عدی ٹکہ
”ان سب پرلویک فی ہوں گے اس قول کے تا ل ار فکر تے ہیں ۔ انی
پا سچواں ٹول:
یہ ےکہ ارہ فا نی نک رین شی اللہر تا لیت مکل سے یں جوا مہری
کیاوفات کے بح ظاہرہوں گےء اس ولیل ے جوححضرت ان عپائس رشی تھا ینا کی
روابیت می لآیا سے :مدکی آخر الما ںکہ ا نک نام مد ین عبداید ہوگا۔ الد تھا بی ان کے
0 ل٭ فی عداات سےلوکوں سے پرعلم ڈورفر بامیں گے ء پچران
کے بعد باروافرادامرخلافت کے والی نہوں گے جن میس راف راداما مس نکی اولا دے ہوں
کے اور پاچ نحخرت امام ین شی الد تھا عنمما کی اولاد سے اورایک أن کے خی رسے
ہوا ۔ پچ راس کے بحدغرق دکھانمیسں کےاورز ماش فساد ےک رجا تن ےگا
حعافط ابن نے لپاریی میس خر ماا:اس قائ لکاقول داس نی سے اورجھ
روایت حخرت اب ن عپاس ےق لککئی ےہ وواخچائی ضیف سے وا اعم
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۷۸۰۴۷١٢١ یاہە-8
5]]٤]ہ5:/3۲۲ا۱۷۲۰۶۲۱١/۸۰۲3٠[ا5/)0020131[ااتن3۹30131131
رہ ۓےەہ٭ل16ط . قطج دص ج2 // : ٭>مہغط
خلامٌَِ الْقاتِ البَاجرٰۃ فی جَواز القولِ بالححم-ة الطاھرة 15
گرگروہ روافھل نے اس حدبی ٹکو پاطفی خلافت پعمو لکیا سے اور ا کا
ترابلی بیت شل سے بار دفو کر یمم روفہپرکیاہے۔
اور معن یبھی محسب ظا راف عدبیث سے اگر چہ بح یں سے ہگ کہ جب
رافضیہ نامرغیہ نے حدیث پرکورکواس مراد پرنحصو رکیا سے اوراس پر ا نل فاسد
قاصدکی یاد ری ہے جیسے پرکور وخ ںکر بی ہکی عصمت اوران کے خی رکی حدم ححصست
او رخیر تو مکی خلاففت وامام تکا ٢ 7>ص-ص- - 00
ولغ ںکر ببمہ ہرکورہ کے لئ خلا فت اکر تے ہیں اورمضرت ا لوبگ رد لن عم روعخنان
ری اشنا ی نم سےغلاف تک یکرت میں اوہ یکن ئن ای اشن( نی فایٹ
گرتے ہیں )
اور اإ سّت وجماعت کے مز دی ک مسوم ہونا اخ میم الصلا جوا" جم کے
ا ہے ٣ہ اور( مسوم ہونا)خلافت غاغا ءکیش میں ے_
نمیا یہ السلام کےسواکوگی مسوم یں سے بس
لہ چنا خی لہا لایس سے :عام اخ ہم ال دا و والسلام صفائر وکپائروکفروقبائ سے پاک وع ومہیں۔(ال نے
الاکبر مع شرحه للقاری ء ص۱۰۰۰۹۹ء مطبوعة: دارالکتب العلمیة بیروت) اورطائی:قا ری اتی نے ح ہکا
می وم کیاے۔(شرح کتاب الفقه الاکبرء ص ۰۰٠۱ء مطبوعة دارالکتب العلمیةء بیروت)؟ّ لک مطلب
بی ےکہمارے انا ہم لصلا والسلام پر کی رہ ہارب بی بانوں سےمحتصوم ہیں ۔( فآ وی شی الرسول 2۱٤۱ء
مطود شی راد لا بہور )اور ملا لی تما ری سے ہیں :خر ہب الا بر بوکصصس تل نت اود بعدضبوت دوفوں زمانے مل
ات ے۔(شرح الفقه الاکبرء ص۱۰۱ دارالکتب العلمیة ء بیبروت)
چنا خی امام اونصورمر بن مم یھو !تن سعرقری مت می ۳۳٣۳ کھت ہیں: پچ رازسان اورجن خی مو نیس سوا تۓے
رسولوں اوراخیا جخعلوات الیڈیہ این کے۔(شرح الفقه الاکبر للسمرقندیء ص۹۲ء مطبوعة: الرحیم
اکیڈمیء کراتشی)
خلاصٍة النقحاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 16
یں ابی سبب سےا پلسغت و جماععت سی مرکو رکا قو لک۷مر نے سے اجقتنا بکر تے ہیں اورخود
کواس سے ور رکھئے ہیں ۔
راس لن اکا قالاگمراماصت سے مرا وص رف فو کر بی برکور ہک ی تیعم رفضیلت
نشرافت لیا ےن انز سے اس می ںکوکی مرج نیس ے او راگ خلا فت اور ال کی یقت
اس وج برمراد لیا جوگرو ونام ضرافضی کے ہاںمتررےنو اس اش نے تہایت بی را
کا مکیاے اورائل بڑعت (سیھ ایوس ار کر ای نے اع دو کول
مرادچھی فجن میں نی ھی ھکوئی حر نج نیس ہے ۔ ہاں !ان مقلرس پستنیوں بر لف امام
ہو لے کے لے شاررع علیہ العلا مکی طرف سےکوٹ ین واردکہیں ہےہ برغلاف اس کے
جصے ہم پیل ذکر سی ےک نظ یئن اک “اس میس شا رم علیہ الصڈا ت والسلا مکی جاب سے
ضن 9ئ ٠ نے ایی کے ارادرے سے جورانضی نام ضصی یی
راد سے ا ن نو یکر یہ مرکود ہبہ بارداما مکا لغظ ولا جھی ا ےکا فرینی سکہاجا گا اوراس
ک گنی کر نے والاجن سے او زکر نے والا او رگنگا رہوگ کیو فی نا رہب بی بے
ا رکوئیتقین رافضی ہوگا (ج بکک ذ ای نہ )کم ہما ےکھی کا فنیو ںہیں کے اوربجی
۴( شی ہت نتم ہیں :ال خال یکم رضروریات دین ہوں: ماق رآ یکنا بتانحیہ یا عنانیکہیں با امیر
الین موا کرم اللہ وج خواہ دمگرائص اطہارکوا خی ے سا لقن ہم اصلؤ وا“ ا لے بر
ارب العزت بل وعلا یر برع مشنیحم د ےک ران ہوناء بی اکر بل د ینا ءا پیل ملح ت الم نہ ہونا بت دونعلع ہوكر
ہیلک مانیں ءا ضویف رسدال ملین س٥ل او تھا لی علیہ یلم پک و بن تین می س تق یک یت ہت رعحلء الی غیر ذلك
سن الکفریسات (ائل کےعلادہ دی رکفریات )لوگ یقیا ا اح کافمل ہیں اوران کےا ہکا مل مرا وی
شی ری دقا دی ہندیدعد یت بث ر اش ے:احکامھم احکام المرندین( اع کے ا ہکا مرن بن دالے یں )
(فتاوی هندیه ءباب فی احکام المرتدین ٢/٢٦٢٢ نورانی کتب خانه پشاور)
(بتعاشیرا حم >)
(61ا٥٤ ۲٢١٢ ۱۸۷۰۴۷١ یكاہە:8
5]٤]:/3۲۲ا۱۷۵۰۶۲۴۱/۸۰۲3۹٠ا٤/)٥020ا131[0ا 31۹30131131۱
ہورہ تح ہەط٭106ط . طج دص ج2// : ۹ط
خلامٌَِ الْقحاتِ البَاجرٰۃ فی جَواز القولِ بالححمسة الطاھرة 17
آ کل کےاکر بہتام رفا تج رائی ام کے می ںکرددحقید کر سابقہس ان کے عالم جائل مردشورت سب ش یک
ہیں الاماشاء ال (گر جو ال تی چڑے )جوکورت ایی ےق ءکی ہومرقہ د ےک ماب دیی سکم سے جوسلنا سے نک فر
سے ضرم سے نداس کے ہم خرہب سے۔جس سے اکا ہوگا زنا ےس ہوا اوراولا دولدالڑنا-
دو تبرال یکر عقا یرکف ریاجماحیہ سے اجختنااب اورصرف مت صا یی الڈد تا یٹ کا اکا بکرتا وہ ان مس سےمگ ران
خلافتجأخن شی ال تھا یکہمااو رئیش ئُرا کین وا لف ہا ۓکرام کے نز دی ک کا فرومرنل ہیں نص صلی فی
الخلاصة والھندیة وغیرھما “'(خلاص اور ند پیل ال پل ے)
(خلاصۃ الفتاوی ء کتاب الفاظ الکفرء ٤/۳۸۱ مکتبه حبیبيهہ کوئٹه )
رک مق قول مین ےکی بین ناریاجونحیکلاب النار ہی ںگرکافرزنیس انی عورت سے کا اکر چک گر
سخ تکراہت شد بد ےگرودے_
لما فی الحدیث عن النبی صلی اللەتعالیٰ عليه وسلم لاتنااکحوھم -
کیڑل حر یت ش ریف می ںستضمورعلیالصلؤ والسلا مکاار شماد ےکالن سے کاب شکرو_
(کنز العمال ۸ك ٥٥٥ و۱/٥٢۹٠٣٢٣٥ ٢٤و ٣٢ ءموسس الرسالة بیروت )
حدیٹ میں ےک ای کٹ نے اپنے نا قہکولحن کی تضورسلی اتال علیہ یلم نے اسےپھٹرواد یک یاحونہناقہ پہ
ہکارےسا تع نردہ .تل رکی نے اس نا کو موا ء عالانکل نا قہ نی ہا تی زی نپڑیں_
(صحیح مسلم ءباب النھی عن لعن الدواب٣٢٢٥/۲ءقدیمی کتب خانه کراجی )
رات جأخن شی اوت کہم لصنتکرنے وانے بلاش انت الہی کے مورہ ہیں :او لعكإیاسم الله ویاعثھم
ااسلاعضون ۔ یددولوک ہی ںکران پرالڈدتھا یلت فرمانا ے اورسب لن تک نے وا نےلعضتکر تے ہیں .الہ ن:
۵ ۵ە۱۵۵//)(
اعادمث کی را اس با تی ہیں ایکون عبت رکنا اکییکرشر مط رک وکوارا ہوگاء واڈ ا لبادگی-
سو فیک تا صا کرام شی ارتا یش مکوخیرسے یا وکرتا ہوخنغا ےار ہہ رضوان اللہ تئیہ مکی امامت یقن جامتا
پوصرف امیر لین موٹ ین شی اوڈ رکنم سے ال مان ہو ھی ںکفرسے ہھ لا نیل بد مہب ضر و میں
امیئورت سے پالانظاق کا جات ہے پا لکراجت سے خائ ینمی ںک ہمدص ہ ےار چہ یگ ددجہکی برعت ےتصوصااگر
ا لکینحبت می اپنے نہب پرائڑ پان ےکااشمال ہو دکراہت شد ید ہوجا گی اورین خالب ذاش با بدر جج رح ء
واللّه سبحانه و تعالیٰ اعلم )
(فاوکی رو کاب الگا باب ار بات ججلداا ۳۴۵ ءمطب وص رضافا ئن نءلاہور)
خلاصٍة النقحَاتِ البَاجِرٰة فی جواز القولِ بالحمسة الطُاھرة 18
ہار ےامام امام ابوعذیفہکا نہب ہے جی اک ہآپ نے خوذ الفقہ الا کر یس اورآپ کے
شاگردوں نے اپٹی شب ا سکی فص رر فر مکی ے۔
ہیں اف کےیش لک یکی ےگنمرکی جات ےگ یخس نے صرف لفظ مرکو (بارہ
ا اولاےت
مادقا لی سے ہدایت اور تی یکا سوا لکرتے ہیں اور وجی ری وین
کن رون جانۓ والا ے اور تم ا کی حریٹر ظفل سے از
یم اور پکی اولا داوراصحاب پردرودوسلا مکگیتے ہیں -
اے ادا ہیں اہ نے کرمم نب یکی ماع تکی فی اورا نکی شفاعتءانقا کا
شوق اور نکا قرب اورا۲ نکاد برا رتحیی ب خر مااورآ نکی عبت بڑ ھا اورشکییں ا نکی سنت پ
زند و رکواورا نکی مت پرموت دےاورآپ کےگر دہ ٹیل جہھاراشثرفرما او گی ںآپ کے
مق کوٹ سے ایا پای پلا جو برا بک نے والاء پٹے می ںآ سان ء کت والا ہویش کے بعد
مم ابی با سے شرہوں۔
اے اود ! یں صرا یٹم پر چلا اور اپنے مضقبوط دن پ ا بت رکواوریں اپنا
شوقیء ایی عبت انا شرب بڑھا اور کیل 51 جنت میں داٹل فرما اورگئیں ایارفیٹ
ھی ب فر ما ۔آ ان ءخیرے لئ بیج سےءاے رب الھا نع ا1
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۷۸۰۴۷١٢١ یاہہە-8
5]٤]:/3۲۲ا۱۷۵۰۶۲۱١/۸۰۲3۱[ا۱۹/)0020131[ا0اان3۹3013113۷
رہ ہٌّ٭ہ1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلامٌَِ الْقحاتِ البَاجرٰۃ فی جَواز القولِ بالححمسة الطاھرة 19
تا زمخ وم بد الواحیدوستالی علی ال رم
سوال : ج چاددہجشن پرنازل ہہوکی شی ۱ وہس طر یھی اور سح مکیاھی ؟
اب :کی اعادیٹ سے ٹاہ ےک داز کو ودک شی :یتوس ات لی علیہ
وآلہےلم کےلہاس ےی اود ہسیاہبالو ںکھی۔ بج عد بی شرف یل ےکہ
رسول ایڈ٥کی اللہ تھا لی علیہ دلہ لم ایک دن تشریف لا اورآپ نے
پالوں سےنئی ہو گی چا دراوڑھی ہوک یی یں ححضرت سن نکی شی اتی عن ہآ
آ پ نے ای اس میس داشل فر مالیاء ضر ت مین رشی ال تی نے میں ود داشمل
ہوۓ ( چا در بیس )ء پچ رحضرت فا لآ میں نذ آپ نے نیس داقل ف مایا پر تحضرت لی
آ ےپ نے انی بھی انس میں داخل فر مایا ء رف مایا( ا ںآ کر کی حلاو تفر ماگی)|
(الاحزاب:۴۳/۳۳)
تر :ادن بی جاجتاے ا ےی کےگھ روالد اکم سے ہرناپاکی دورفرمادے اور ہیں
اکر کےخوب خر اکردے۔ مھ زالا یمان )
ا سںکواماممسلم نے اتی یس روای کیا اورامام ابد نے اتی“ من یں
روایتثر بایا۔
سیاہ
ےو
اور ااوسعیر مم درریی ری اتا ی عد ے روابہت ےا رآیٹ ا (اشخاشض)
سوہ وو ٠ ہیں ): نی صکی الد تھا ی علیہ وآلہ میم ء (حضرت )لی
انی رت )فا لیا قالخا رٹ )نع اوت ) تن رت
خلاصٌٍ النقحَاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 20
الٹ تال کہم ۔اسے(امام )اج نے روابی تکیا۔
نیدی می سک اکم رط یم کے زم کےساتقعداو نکی چا در ہے جییے اوڑ حت
ہیں رتل ؛می مکی ٹیش اود عاء زیر دائ یکی تشد بد کے ساتجعہ دو کپٹرا ہے جس پہ پالان
صور ات لکرد تن ہیں ۔ انی
اورادر کےاند رکا نکاکھان شاب ت کیل ےمان دعا شا بت ہے۔
سوال : حضر تل یکم اللد وچ الک ری مکوسیدکہاجاے ایل ؟
جواب: ظاہر ےک حفرت امی راک مو نعل یکر الندد جم بلاشک وشیہ ہس ہیں جلی اکراس
پراحادیث شال ہیس ءئییں” الصواعحق میں ے: تتابٹی 2 روابم گیا تل پار دور رے
حفرت علی نظ رآ حفورصلی اللر تھا ی علیہ وآلہ کم ,9ر
سید( ردار)اے ےم لم نین حقریت ا کش( دوہ )شی ارت لی عنہا نے عم کی :
کیا آپ عرب کے سردا یں ؟ تو خر مایا :شی قمام ہاو ںکا سردار ہوں اوروہ( حر تک
ری الد تھا لی عنہ )عرب کے سرداد ہیں۔ اسے امام اکم ات کھووات
کیاہے۔
از مخدوم عبدالواحد سیوستانی
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۷۰۴۷١ یاہە-8
5]٤]ہ:/3۲۲ا۱۷۲۰۶۲۱۸/۸۰۲3۱٠۱۹/)0020131[اماا3۹30131131
رہ ہٌّ٭ہ1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلامٌَِ الْقحاتِ البَاجرٰۃ فی جَواز القولِ بالححمسة الطاھرة 21
يد کئے و خل عاہ اسطق
وبعد! میگوید فقیر حقیر اُمیدوار برحمت حضرت ملكہ غنی محمد ھاشم بن
ستضر مہ مت اسر اھ اہی گسھرنیطة
کهە گفتنه اند بعضی متعصّبان :کە هر کسے کە اطلاق کند لفظ پنجتن پاك
برنفوس کریمە محمسه معروفه آن شخص رافضی باشد وھر که اطلاق کند لفظ
دوازدہ امام برنفوس کریمہ اثناعشرہ معروفه اُو کافر شود والعیاذ باللله تعالی۔
جن پک
پس گفتم من: برزمره ال اسلام وجماعة خدام حضرت سیّد
کائنات عليه أُفضل الصلاة والسّلام مخفی ومحتجب نماند کە استشھار یافته
ا ظع اھ سے حخ اس را اس الا ا تارھ اتا
حضرت سّد الَوّلین والآخرین صلی الله تعالی عليه وسلم و حضرت علی
فرط وستی وزمرآرضن الله تعالی (عنھاوعنھم)
پس این معنی صحیح است و ثابت واصل در تصحیح این اطلاق حدیث أمَ
الس عامف اسکرضی الفقال سای گت کے برا لعل
الله تعالی عليه وسلّم ذّات عَدَاؤ وَعَلَه فرط مُرحَلُ مِنْ شَثرأُسُوَدہ فجاء
الحسیُ بن علیْ فأدحَلَه تُمْ جاء الحْسیُ فَدَحَل معه ٹم جاءَ تٗ فاطِمةُ فادعلھا
جَاءَ علیٌ قادحَله ثُمٌ قال: نَم يُرِیْڈ اللَهلِيّذُهبَ عَنْگُْ الرِحُس اَمَل اليّتِ رَ
يُطْهرَكُمْ تَطَهِيْرَا ““ (الأحزاب:۳۳/٣۳)
خلاصٍة النقحاتِ البَاجِرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 2
3 3 ۱ 3
ھ۵
کے ووم ۔ٍ
تفسیریھماٴومروی است
0
3 7
گے فا 1 5
:۰ ا ا کے 1 ٢ ا کے ۰ َ6
ہد وو مگ ۸ سک ا
َ ا ۶
سشافٹریرھے الللسال تہ اتی آر ےا ک وکا
_ا صحیح مسلم کتاب اللباس والزینةہ باب التواضع فی اللباس إِلخء ۹/۳ ١٣٦۱ء برقم:٣۳۔(۲۰۸۱)
۱٦٢/١ المسند للامام أحمدہ ٣
٣۲۷۲ ٢:مقرب المصّف لابن ابی شیبةہ کتاب الفضائلء باب فضائل علی بن ابی طالب رضی الله عنهء ۱۱۷/۱۷ء ٣
۲۸ ٣۸۸:مقربء ۲۹٦/۱۰۰۳۳٣۳ تفسیر الطبریء سورة الأحزاب/لاآیتان: ۳۲و ,۳
ش الدرالمنثور ء سورة الأحزابء تحت الآیة ١۳٣٣/٦٦٠٣٣:
اترك شر تیر الاقراب سمل الأ 2ل رالارملم ا ۶ل تت۷ ۷۷٢
المعجم الأوسطہ باب الحاء من اسمە الحسن, ۳۳۳/۲ءبرقم:٤٥٣۳ءعن أأبی سعید
۸ي تفسیر الطبریء سورة الأحزاب/لاآیتان ۳۲٣: و ٣۱۰۰۳/٦۲۹ءبرقم: ۲۸١۹۰
گ, الدرالمنثور ء سورة الأحزابء تحت الایة: ١٥/٦٠٠٠٤٣ ٥٣۔٣٢٥١
٭لہ الدرالمنثور ء سورة الأحزابء تحت الاأّیة: ١٥٢/٦٦٢٣
الہ الدرالمنٹور ء سورة الأحزابء تحت الآیة ١٥٢/٦٦٢٣:
اب تاریخ بغدادء باب السینء ذ کر من اسمه: سعدء ۲١۷/۷
٣ سُنن الٹرمذیء کتاب الدبء باب : ماجاء فی الٹوب الاسود ٤٤/٣ ٥٥٤٥ء برقم:۲۸۱۳
٤ تر شر س ۷ شوات تاپ لالط رھرمل آمز ود التہ 1۹۶
برقم: ٣٣٦۳ء عن اَم سلمة رضی الله عنھا
(61ا٥٤ ۴٢١٢ ۱۷۰۷١٢١ یاہہە-8
5]٤]5:/3۲۲ا۱۷۲۰۶۲۱١/۸۰۲3۱[ا۹/)0020131[0اا 333013113۷
رہ ہٌّ٭ہ1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلاصِة الْفَحات البَاجِرَۃ فی جُواز القولِ بالحمسة الطاھرة 23
مروی شدہ از حضرت سلمه ربیب پیغمبر محد ا صلی الله عليه وسلم ورضی
اللوسر اع اتی ت24۷ و ال اج کی س1 ارہ ج
پل ہو ٤
و ان مرفوی “کی 'فسیر یھٹا
۰1 ۶ گل ۶۶ رت 2 ۲۰ - ۰
آخرجہ الامام فی ”مسندہ“ وابن بی شیبة فی ”مصنفه ” والبھیقی فی
وو نے مہ اگ ہی وو ×ظ ہے وو لے اگ اف
انا ۰ض 7 20 7 7
وابن جریر ” وابن المنذر ” وابن أبی حاتم ”فی ”تفاسیر ھم
پ0 : اک ھ2
۵ سنن الترمذیء کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة الأحزابء ١/۱۹۸ء برقم:٥ ۳۲٣٣
٦ا المعجم الکبیرہ بقیة اخبار الحسر: بن علی ء برقم: ٢٦٦۲ء ١٢/٣
ےل تفسیر الطبری سورة الأحزاب/الآیتان: ٦۲ و ٣۳ء ۰ ۸۱ء برقم: ۲۸١۹۰
۸ الدرالمنٹورء سورة الأحزابء تحت الاآیق: ١٥٢/٦٦٠٣
۹ل المسند امام أحمد:٤/۱۰۷ء مطبوعة: المکتبة العلمیة ء بیروت
٭ المصّف لابن أبی شیبقہ کتاب الفضائل ء باب فضائل علی بن أبی طالب رضی الله عنەہ ۱۱۷/۱۷ء برقم ۴۲۷۳٣
لالم سب ااسافالس ل تی مرا ما صلی اللطورشلری فرہ۷لف لال
برقم: ١ ١١٤ عن منصور بن صفیة
۲٦٦۹ ءبرقم: ٥ ٥/٥٣ المعجم الکبیر؛ بقیة اخبار الحسن بن علی ٣
۷ الس سرک سی سر راہ رات سس صلی ال ظاہر لربل قل و لع
۳ تفسیر الطبریء سورة الأحزاب/لایتان ۲۸٣١٤۹ ٤:مقربء۲۹۷/۱۰ ۳٣و ۳٣٣:
۵ الدرالمنٹور سورة الأحزابء تحت الآیق: ١۳٣٣/٦٦٠٦٣
١۳٣٣/٦٦٣٣: الدرالمنثورء سورة الأحزاب؛ تحت الآیة ٦
خلاصٍه النقحَاتِ البَاجِرٰۃ فی جواز القولِ بالحمسة الطُاھرة 24
بروجھے دیگر بدین لفظ کہ: إن ھذہ الأیة نزلت فی محمسة : النبی صلی الله
امھ اس ےه
ونیز وارد است در حدیث مرفوع از حضرت أبی سعید خدری رضی الله
تعالی عنه کە فرمود حضرت پیغمبر خدا صلی الله تعالی عليه وآله وسلم که
۸ 73 َ
ماف ھ سدق 7اپ ا8ک ر لئ ا یہ ظط رن
٤ ۱ ا حات ا ہو ٤
جریر ” و ابن ابی حاتم ” فی ''تفسیر یھما
25
ونیز بصحت پیوستە است کہ وقتے کە انداحت حضرت پیغمبر حدا صلی
الله تعالی عليه وآله وسلم کساء شریف رابرایشان دران وقت دعا فرمود
5 : ے٤ ےر وو کی کی 2 2 گر ر ے وو سر ے
درحق ایشان و گفت اللھم طولاءِ أھل بیتی وخاصتی اذجب عنھم الرجس
رس ھ نے یىی یم۳۲
َقرهْم نَطهً“
کل الدرالمنثورء سورة الأحزاب ء تحت الآیة ١۳٣٣/٦٦٤٣:
ال فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوتء الأصل الثالٹ: الاجما ع/مسألة لا ینعقد ال(جماع بأھل وحدہ
۹ المعجم الکبیرہ بقیة اأُخبار الحسن بن علی ء ٣/٢١ء برقم: ۲٦٦٢
۴, تفسیر الطبریء سورة الأحزاب/لایتان: ۳۲ و٣۳ ۲۹٦/٠۰ برقم:۸۷١ ۲۸
ا٣ الدرالمنٹور سورة الأحزابء تحت الآیة: ١٠٥٣/٦٦٠٣٣
نشی می ساب ال غات رائ) ماوق سیل نات مد گا رٹ ظا
"٤
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۷۸۲۴۷١٢١ یاہہە-8
5]٦٤]ہ5:/3۲۲ا۱۷۲۰۶۲۴۱١/۸۰۲3٠٠٤/)٥020ا131[5ا 3330131131١
رہ ہٌّ٭ہ1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلاصِة الْفَحَات البَاهِرَة فی جواز القولِ بالحمسة الطاھرة 25
شا نزول:
ساب گنی تھا آر و اتل گے ایایاکر رم حرعھات تسار
”پنجتن“ برنفوس مطھر ہ جائز وثابت است وانکار آن جھل است ونسبت
رفض کردن بسوئی قائل تعصب است وعناد واگرچه علماءِ اھل سنت گفته
بلکه عام است جمیع اھلِ بیت را از ازواج مطھرات وغیر ایشان نیز بواسطه
قاعدہ کە مقرٗراست در علم اصول که ”العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص
السبب“مع ذلك اطلاق لفظ ”پنجتر“ منافاۃ بە تعمیم مذ کور نە دارد-
زیرانچه فھوم غاد معتر ٹیست شرعاً ”و التتصیصٔ على الْعَدُدِ لا یَڈُلَ عَلَى
0 5 1 5 ۳۳۳
التخصٍیص“ کما تقرر فی علم الاصول ٭۔_پس اطلاق این لفظ دلالت نە کند
برنفی طھارت از سائر اھلِ بیت مثل ازواج کریمه وآلِ عباس وغیردمم رضی
الله تعالٰی عنھم۔
رلٹذا خائز اس اطلاق لفظ عشرہ مُبشرہ برنفوس کریمعشرہ معروفہ
ہے ود را ۳٣
۲٦٠/١٠٢٢ بدائع الصنائع ء کتاب الجنایات ٣
از بک الرمذی؛ کتاب المناقب؛ باب: مناقب عبدالرحمن بن عوف الزّھری رضی الله عنہء
٦۸۷/٣٥ ۳۷ء ١٤ برقم:
خلاصٍة النقحاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 26
باآنکە بشارت دادہ است پیغمبرِ خُدا صلی الله تعالی عليه وسلم بحنّت
۲
فاطمة: ي 2 زار
۵ الاستیعاب فی معرفة الأصحابء باب حرف العینء ۱۱۲/۳
؛۳٦۷/ ٥:۱۹:بابو برقم: ۷۱۰۰ء ۳٦۷/٤ ١۱۸: صحیح البخاری؛ کتاب الفتنء باب ٦
برقم:۷۱۰۱ء بلفظ :انھا زوجة نبیکم فی الدنیا والآحرةء عن عمار بن یاسروحسن بن علی)(الاحسان
بترتمب صحیح ابن حبان ء کتاب اخبارہ عن مناقب الصحابة إلخ ءذ کر جز ثالث یصرح
...الخ برقم:٤ ۱۱۱/۹/۸۰۷۰۰۔
کتاب الأربعین فی مناقب أُمھات المؤمنین لابن عساکر؛ الحدیث العاشرہ الحدیث العاشر ء
ص۱۱۰ءالطبقات لابن سعدہ ذکر ازواج رسول يُِہء عائشة بنت أبی بکر الصدیق ٥٤/٦٦ ٤٦ء بلفظ
: أُن عائشة قالت: قلت للنبی ثيػُء من أزواجك فی الجنة ؟ قال :أنت منھن۔
ال(حسان بشرتیسب صحیح ابن حبانء کتاب اخبارہ تک ءعن مناقب الصحابة إلخ؛ ۱۱۱/۹/۸ برقم:
۳ء بلفظ : فقال: أما ترضین ان تکونی زوجتی فی الدنیا والآحرة ؟ قلت: بلی واليه ء قال: فأنت
زوجتی فی الدنیا والآخرة۔برقم:٥٥٥ ۷۰ء بلفظ : عن عائشة قالت : جاء بی جبریل عليه السلام إلی رسول
الله تُِهُ فی حرقة حدیر : فقال: هذہ زوجتك فی الدنیا والآحرۃ۔
کتاب الأربعین فی مناقب أمھات المؤمنین لابن عساکرہ الحدیث الثانی عشر:ص ۱۱۹۔١۱۲ بلفظ :
عن أبی بکرة قال: قیل لە: ما منعك أن لا تکون قاتلت علی بصیرتك یوم الحمل۔ قال : سمعت رسول
اللەثكُ یقول: یخرج قوم ھلکی ء قائدھم امرأةء قائدھم فی الجنة ۔ وقال ابن عساکر: وفی ھذا الحدیث
دلالة علی اُنھا لا تدخل النار ولیست بکافرۃ بمقاقتلة علی رضی الله عنه کما زعمت الرافضة ء وفيه دلیل
علی نبوۃ النبی تک
ےل سیٗدة نسای ال الجنة فاطم الژھراء أو إتحاف السائل بما لفاطمة من المناقبء الباب الثاث
لافضائلھا وبناء المصطفی .... الخ اللحدیث السابع والأربعون سیّدة نساء اُھل الجنة ۔
ؤف 2
۸ سنن الترمذی باب :(٣۳۱)مناقب الحسن والحسین رضی الله عنھماء برقم:۳۷۸ء ٦۹٦/٤
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۸۷۰۲۷١۰١ یہ8
5]٦٤ہ:/3۲٢۲ا۱۷۲۰۲٢١/۸۰۲3۱[ا5/)0020131[0ا 33313113۷
رہ ےےە7ٴٌ٭یہ1ط . طچ درصں ج2// : ۹ط
خلاصِة الْفَحات البَاهِرَة فی جواز القولِ بالحمسة الطاھرة 27
به الأحادیث الصحیحة الضریحة_
وتخصیص الشیعة اُھل البیت بفاطمة وعلی وابنیھما رضی الله عنھم
والاحتجاج بذلكعلی عصمتھم و کون إجماعھم حجة ضعیف لأن
الكخصیص بھم لا یناسب ما قبل الاأیة وما بعدھاء والحدیث یقتضی أأنھم من
اع ال ے لا آفلسں خرس ا تالت لایہ لا مضیی العسیصض وقد
قدمنا أن ذکر لفظ العدد لا یدلٌ علی التّخصیصء وأیضاًء والضعیف راجع إلی
حمل الطھارۃ علی العصمة بمعنی وُجحوب الَْزّہ عن الُنوب کما هو قول
الرفضةء وأھل السنَة لا یحملونھا عليه بل علی التىزّہ عن سوءِ الخحاتمة بالششرك
وسلب الایمان۔وعن خلووالبًار بل عن دخولھا بل یمکن أُن یکون تلك
الطھار عامة لجمیع ال بیته عليه الصّلاة والسلام ولو سوی الخمسة
المطهھٌرة المذ کورة۔
ےناہرس ف رخ ای سر لشقال فس7 ل7
تعالی علیه وآله وسلم قال ”سَأَلّتُ رَیّیٗ ان لا يَدْحَل أَحَذا مِنْ أھُلِ بیتِيُ الا
قَأَغْطایی “ا حرجه ابن القاسم بن بشیر فی ”أمالیہ“ ” ولیس ذلك بیعید من
رخف ال فا فا رکال طل برا السل شھاع ہر
وسلمم ولأحل تلك الطُھارۃ حرمث علیھم الصّدقات التی بھا أوساخ النّاس'“
۹ التفسیر البیضاوی؛ سورة الأحزابء تحت الآیة ٣۳۱/٥۰٥٣:
۶ الفتح الکبیر فی ضم الزیادة إلی جامع الصغیر باب حرف السینء ٠٤١٤/٢
ا, المعجم الکبیر؛ من امه ربیعةء ١٤٤ ءربیعة بن الحارث بن عبدالمطلب إِلخء برقم: ٥٢٥/٠٥٥٤٥٥٥
خلاصٍة النقحَاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 28
دوازدوامام
واما مسئلة اطلاق لفظ ”دوازدہ امام“ برنفوس کریمہ انا عشر
معروفه از امل بت شریف نبوی پس بدانکە وارد شدہ است در حدیث
صحیح از حضرت جابر بن سمرہ رضی الله تعالٰی عنه کە فرمود پیغمبر خُدا
صلى الله تعالی عليه وآله وسلم :٭لَايَرَالُ الدِیْنْ قَائِما تی تَگوْنَ عَلَیكُمْ اتا
وڈ و کو ہر : 2 ۲
عَشَرعَلِيْفَة كلهُمْمِنْ قریُشش“روی هذا الحدیث الإمام أحمد فی ”مسندہ“ '“
وارمعتاللین اسلاتیاززائد المُمسارسل نے یڈ 'راماد
00 3 ولا اس ۰ ا ۲ س9ع 7 :-
فی أُلفاظ واتحادفی المعنی الا آنکه تنصیص از شارع کریمه واصحاب او
مل النظلہر ال ئل رعی لھا ضیح ھپ ازج ساناہ ال عتر
بروجھی که قاطع نزاع گردد وارد نە شُدہ است۔
علما اھل سنت حمل کرد این حدیث را بر حلافت ظاہرہ وھو الصٌواب
الموافق بظاھر الفاظ الحدیث الا آنکه اعتلاف کردہ اند ایشان نیز باھم
برپنج قول:
۳, المسند للإامام أحمد:٤/۷٥۱ء مطبوعة: المکتبة العلمیة ء بیروت
۳, صحیح مسلمء کتاب الامارةہ باب ٣٤٤/۳٣۱ ۱ءبرقم:١١۔(۱۸۲۲)
مم سُنن أبی داؤدہ ٣٠ء أُول کتاب المھدیء باب : ٠٤٥٤/٣۰٠ء برقم: ٦٢۷۹
ھ (سُئن الترمذیء کتاب الفتنء (٤٥)باب ماجاء فی الخلفاءء برقم:٣ ٢٢۲۲ء ٣٢٢/٣
)61ا٥٤٥١ ۴١۱٢ ۱۷۸۲۷١٢١ 8:ەہا٥ی
5]٤٥5:/3۲۲ا۱۷۵۰۶۲۱١/۸۰۲3٠[ا۹/)٥020ا131[ما 3۹3131131
رہ ہٌّ٭ہ1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلاصِة الْفَحات البَاجِرَۃ فی جُواز القولِ بالحمسة الطاھرة 29
ول اولٰ آنکء مراد آنھا خلفاءِ هستند که اجماع نمودہ باشند برخلافت
ایشان وانقیاد ونمود ہ باشند مردم برائے بیعت ایشان اگرچه درعمل نمودن
علامت تساھل از ایشان بوقوع آید بسبب آنکھ واقع گشته است دربعضے
7:ج
اثنا عشرہ خلیفه کلّھم یحتمعّ علیھم النَاسْءانتھلی -
ب اس اس2فا لم گطارعل سب یر وی الاھال عد
زیرانکە بعد از خلفاءِ اربعه مختلفه بودند مردم بعضے بجانب حسن بن علی
رعے الالعتالی صححریس ساب فازورحی الھال کٹ لاانک
اجتماع نمود ند برخلافت معاویه وقتیکه صلح نمود حسن با أُوٍ رضی الله
تغالی نیس
وواو وٹ بآنھا خلفاءِ اند که عمل نمایند برعدالت ومرعی دارند
طریق متابعت اگر اجتماع نە نمودہ باشند خلائق برخلافت ایشان پس از آٹھا
اند خلفاء کبَار اربعه وحسن بن علی ومعاویه وعبدالل بن زبیر وعمر بن
عبدالعزیز رضی الله تعالی عنھم-
وپیدا آیند باقی چھارم خلفاء عابد تا روز قیامت بغیر تعیین الا آنکه یکے از
انھا ست مھدی آخر الژمان.
لو لوق ایی سسعحعافشتتوسوساآہ ول هس2
۶> 3 1
,٦ سنن آبی داؤد ٠ ول کتاب المھدی باب : ۵۶۹۱ء برقم: ٦٢۷٤۹
خلاصٍة النقحاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 30
متوالی بود خلافت آنھا۔
یس وراادی فی اع اتا ماناء ارہ اتھرعی الخ رساء
آنھا تا عمر بن عبدالعزیز چه درما بین این مدت چھاردہ کس خلفاء بودند
ازانھا دو کس بودند کە ولایت آنھا صحیح نشدہ ومدت آنھا طویل نشد
یکی معاویه بن یزید دوم مروان بن حکم وباقی دوازدہ نفر حلیفه بودند علی
التوالی وبود وفات عمر بن عبدالعزیز درسنە یکصد ویك ومتغیر گشت
احوال مردم بعدازوی۔ومنقضی گشته قرن اول درایام وفات وی الّا آنکه
بموحب این قول لفظ حدیث که ”كُلَهُمْ َجْتَمِعٌ عَلَيْهمْ النّاس“۔مگر محمول
پراک رباف زا کہ اب سے رد تشد یرد الادر حضرت حستی علی
و حضرت عبداله بن زیر رضی الله تعالی عنھم باوجود صحت ولایت
ایشان وغالب اُموردرازمنە ایشان منتظم بود وآنچه دربعض مدت ایشان از
عدم انتظام اُمور بظھور پیوسته آن بە نسبت استقامت وانتظام نادراستٔ
شر کت ھتہ میف رض رعدہ ا آصعرضھات
نیست درآنکە کثر ت خلفاءِ در عصر واحد موجب کثرت فتنه وشرور در
بلاد میشود وسبب تخالف وتنازع وواسطه تضعیف امور دین متین می شود
وحافظ ابن حجر در”'فتح الباری“ رڈ این قول کردہ است وگفتہ که لفظ
حدیث وت َجْتمع عَلَيْهمْ 20 ء رڈمی کند قول این قائل را ہے
فتح الباری شرح صحیح البخاریء کتاب الا حکام ء باب ٥٢۔ إخراج الخحصوع وأھل الریب من
البیوت بعد المعرفقةہ ۲٦٢/١٢۳
)61ا٥٤٥ ۴١۱٢ ۱۷۸۲۴۷١٢١ یاہە-8
5]٤]ہ5:/3۲۲ا۱۷۲۰۲۱١/۸۰۲3۱[ا5/)002013[0اا3۹3013113۷
رہ ہٌّ٭ہ1ط . تطہ درصں ج2 // : ۹ط
خلامٌٌِ الْقاتِ البَاجرٰۃ فی جَواز القولِ بالححم-ة الطاھرة 31
را ل٥ زینک ووارد اناو از سیل تین کریمین اندرعی الله ال
عنھم کە بیرون آیند بعد از وفات امام مھدی بدلیل آنچه در روایتے از ابن
عباس آمدہ کس ھ2 اھاتھ انا رمسدی مات باشد و دفع
کین سلای ضالی روسیت آر مرفلتی را تر گنا سی غدالت آر ازیتاظ
ھر ظلمے رابعدازان والی گرداند امرِخلافت را دوازدہ نفررا شش نفراز آنھا از
راوس نات ھر راکصور کحز لی اللھال سا
ذف دیگ راز غیرا یشان یس اران ارقرق اوک و مات قاسد رد
و حافظ ابن حجر در ”فتح الباری“ گفته که قول این قائل واضح نیست
ز رت ۶ار ا صا و فرمھسیت اس ویج مس لعل 7گ
واما زمرہ رافضیه پس حمل نمودہ اند این حدیث را بر خلافتِ باطنه وحصر
نمودہ اند او رادر نفوس کریمە اثناعشر معروفە از اھل بیت واین معنی نیز
اگر ےہ چندات بعید ٹیست پبپحتب ظاھز لفظ حدیث الا آنکہ چون رائضٰة
نامرضیه حدیثِ مذ کور براین مراد حصر نمودہ اند و بناء نھادہ اند براین بعضے
مقاصد فاسد خود را چنانچه قول بعصمتِ نفوس کریمە مذ کورہ وبعدم
عصمت غیر ایشان وبعدم صحت خلافت وامامت غیر معصوم یعنی ما
سوای ایشان تا آنکە اثبات می نمایند خلافت نفوسٍ کریمه مذ کورہ را ونفی
ہی کس عالاہ جحہے اپ کر ضالق بر غارس الغفار می
۸ فتح الباری شرح صحیح البخاریء کتاب الأحکام ء باب ٥٦۔ إخراج الخصوع وأھل الریب من
البیوت بعد المعرفةہ ٣٦٢/١٢
خلاصٍة النقحاتِ البَاجرٰة فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 32
وإلی غیر ذلك من الأباطیل ومقرٌر است نزد اھلِ سنّت و جماعت کھ اشتراط
عصمت از خواص انبیاءِ است علیھهم الصّلاة والتسلیم ودرخلافتِ خلفاءِ
شرط ثیستاے
وھیچ یکے سوی الانبیاء معصوم نیست پس ازین سبب اھلِ سنت وجماعت
از گفتن معنی مذ کور اجتناب کردہ اند وتحاشی نمایند-
پس اگر قائل این لفظ مراد بامامت مجرد تعظیم وفضیلت وشرافت نفوسٍس
کكریمه مذ کورہ دارد جائز باشد وباکی نە باشد واگر مراد خلافت و حقیقت
آن دارد بروجھی کهە مقرراست نزد زمرہ نامرضیه رافضیه پس این شخص
بغایت کاربد کردہ باشد ومتعابعت اھل بدعت کردہ باشد واگر قائل مذ کور
ازین هر دو مراد ھیچ یکے مستحضر ندارد باکی نباشدہنعم أن إطلاق لفظظ
الأئمة علیھم لائصّ فيه من الشارع بخلاف ما قدّمناہ من إطلاق لفظٍ الخمسة
المط٦ّرۃِ فان فیه تنصیصاً من الشٗارع۔ومع ذلك اگر اطلاق کرد شخصے لفظ
دوازدہ امام براین نفوس کریمه مذ کورہ بارادہ معنی آنکه مرادرافضی
نا مرضی است نیز أُو را کافر نتوان گشت و تکفیر کنند أو متجاوز عن الحقٌ
وآئم باشد چراکه مذهب محققین آن است کھ اگر کسے رافضی باشد
تحقیقاًاُو رائی زکافر نگوئیم وھو مذهبٔ إماینا ابی حنیفة کما نصّ عليه بنفسه
فی ”الفقه الأکبر“وغیرہ من إصحابہ فی کتبھ_''
پس چگوئە تکفیر کردہ شودعثل این را که تلفظ تمودہ است بلفظ مڈ کور
۹ لم أطلع عليه فی ”الفقہ الا کبر“وغیرہ
)61ا٥٤٦ ۴٢١٢ ۱۸۷۰۴۷١٢١ یاہہە-8
5]٤٥۱:/3۲۲ا۱۷۵۰۶۲۴۱/۸۰۲3٠۱۹/)020ا1 ام31 3۹93131131
رہہ ہەط 10ط . ےط درصں ج2// : ۶۹ط
خلاصِة الْفَحات البَاجِرٰۃ فی جُواز القولِ بالحَمسة الطاھرة 323
فقط_
نسال الله تعالی الھدایة والتوفییّ وو خیر رفیق وأعلم بالحق
والتحقیق ولا حول ولا قوْة إِلّا بالله العَلي العَظیم
ونصل ونسلم علی نبیّه محمد وآل وصحبە ء اللْھمٌ اررُقنا
مُابعة لَبييْكَ الکریم وشفاعتّه وشوقّه وِقُربه ورؤیته وزدنا
محبّة واحینا علی سنتھ وتوفنا عَلی مِلته واحشرنا فی زمرتہ
واسقّنا من حوض شراباً رویاً سائغاً هنیتّا لا نظماً بعدہ أبدَا۔
اَِلهمٌ امُدنا صراطك المستقیم وئبّتنا علی دِینك القویم
وزدنا شوقّك و حبَكَ وقُريَك وادخلنا جتّة جنتكٔ وارژُقنا رؤیتك
آمین ولك الحمدُ یاربّ العالمین
نت رماہ مات ارت مائین۔
خلاصٍة النقحاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 34
مخ وم بد الواح ہپوستالی علیرل/م-
سوال: چادر که بر ٭پنجتن“ نزول کردہ بود چە طور بود وچه قسم بود؟
جواب:الظاھر من الأحادیث الصٌحیحة ان الرٍداء لم ینزل وإنما کان من لباسه
کات در رارکت ترک زار
سی اسنہ کر رسرل الصلیٰ النکمال علد الم ول ڈات غدا
وعليه مِرطٌ مرعلٌ من شعر أسود فجاء الحسن بن علیٍ فاأدخلہء ثم جاء
الحسینُ فدخل معه ئم جاء ت فاطمةً فادخلھا ثم جاء علی فادخله ۔ ثم
قال"ِنَمَا يرِيَة اللَهلِِذْعبَ عَنْكُمْ الإَحُسَ آفھل ایت وَبطھرَكُمْ تَطهِیرًا “رواہ
اھ
ض
مسلم فی ”صحیحہ“'٭ وروی نحوہ إمام أحمد فی ”مسندہ“
0ى9 9 9 ---ٰگ٘ 9 ۰"
صلی الله تعالی عليه وآله وسلم وعلیٗ وفاطمة والحسن والحسین ۔ رواہ
احَي فا لق الرفیدی ورط یکر گل ازصرت وعرآن ک پرفندہ
مُرشحُل بضمّ میم وتشدید حاءِ مفتوحه جامه که دران صورة پالان نقش کردہ
باشند ۔انتھی
وأما الأکل فلم یثبت لکن تثبت الدعاء۔
٭ صحیح مسلمء کتاب اللباس والزینةہ باب التواضع واللباس إلخء ١٤٦۱ء برقم:٣۳۔(۲۰۸۱)
اش مسند للامام أحمد٦/٢٦٥
۳ الدرالمنثورء سورة الأحزاب ء تحت الآیة ١٥٣٣/٦٦٠٠٣٣:
)61ا٥٤١ ۴١۱٢ ۱۷۲۴۷١۰ 8-ەہا٥ی
5]٤]ہ5:/3۲۲۱۷۵۰۶۲۱١/۸۰۲3۱[۱۹/)0020131[ااتن3۹3013113۷
رہہ ہەط 10ط . ےط درصں ج2// : ۶۹ط
خلاصِة الْفَحات البَاهِرَة فی جواز القولِ بالحَمسة الطاھرة 325
سوال:حضرت علی کرم الله وجھه راسید گفته شودیانہ۔
جواب:الظاھر ان أمیر المؤمنینَ علی کرٌم اللَهُ وجھّه سیّدٌ بلاشك وشبھة کما
- 2 0 0 :تو"
فقال صلى الله تعالی عليه وآله وسلم: ھذا سیّد العربء فقالت عائشة رضی
اللتعالی ضھا الس الع ب افقال؛ آتا ىہ العالی وھر مَمداعربہ
۵َ
ض
رواہ الحاکم فی 7 صحہ“
از مخحدوم عبدالواحد سیوستانی عليه الرحمة۔
۳ھ الصواعق المحرقة فی الرّذٌ علی اھل البدع والزندقة ء ص۱۷۲
۳ المستدرك للحاکم؛ کتاب معرفة الصحابة رضی الله تعالٰی عنھمء سید العربء باب : رقم: ۱۸۲۰
يیا]ہہ8 ۱۷۷۰۷۰ ۴۱۰۱۲ ٥٥ا01(
خلاصٍة النقحَاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالحمسة الطُاھرة 36
: 72
(ماخفل ومر اجع4>
ال(حسان بترتیب صحیح ابن حبانء للأمیر علاءُ الدین علی بن بلبان الغازی
(ت ۷۳۹)ء دارالکتب العلمیةء بیروتء الطبعة الثانیة ١١۷ ۱١-٦۱۹۹۲ء
الطبقات لابن سعد (ت ٣٣ ٢)دارالفکر ء بیروت ء الطبعة الأولیٰ
٤ ہ۔١٣۱۹۹مءم
المسند للامام اأحمد بن حنبل الشیبانی (ت ١٤ ٥٢٥٢)المکتبة العلمیة ء
بیروت
المصنف لابن أبی شیبةء عبدالله بن محمد الکوفی (ت ٥٥ ٢۰)ء تحقیق
محمد عوٌّامة ء دارقرطبةء بیروت ء الطبعة الأولیٰ ء/٤٤٢٣ ١ہ١۔ ٢۲۰۰م
المستدرك علی الصحیحین ہ للخاکم أبی عبدالله الیساہوری (ت٥ ٤٠)ء
دارالمعرفة ء بیروتء الطبعة الثانیة ١٢۷ ١ہ۔ ٢۲۰۰م
المعجم الأوسط للطبرانیء أبی القاسم سلیمان بن اُحمد رت ٦٣ ۵۴)ء
دارالکتب العلمیةء بیروت الطبعة الأولیٰ ٦٤٤ ۱۔۱۹۹۹
الہمعجم الکبیر للطبرانی؛ أبی القاسم سلیمان بن احمد (ت )٥٥٥
مطبوعة دارإحیاء التراث العربی بیروتء ٦ ٢۲۰۰م
الجامع لشعب الإایمان ٤ للبیيھقی : امام أبی بکر أحمد بن الحسین
الشافعی (ت۸٥۳)ء تحقیق الد کتور عبدالعلی عبدالمجید حامدء مکتبة
الرّشدہ الرٴیاضء الطبعة الأولیٰ ٣٤٤ ٥١ہ۔ ۲۰۰۳م
اللدرالمنٹور فی التفسیر بالمأثورہ للامام الحافظ جلال الدین السیوطی
رحمة الله عليه (ت ۰۹۱۱)ء دارإحیاء الشراث العربیء بیروتء الطبعة
م۲۰۰١ ١٤٤ الأولیٰ
5]٤]ہ:/3۲۲ا۱۷۵۰۶۲۱۹/۸۰۲3٠ا۹/)020131[مات 3۹3131131
1
رہ ےےە7ٴٌ٭یہ1ط . طچ درصں ج2// : ۹ط
خلاصِة الْفَحات البَاهِرَة فی جُواز القولِ بالحْمسة الطاھرة 37
الفتح الکبیر فی ضم الریادۃ إلی الجامع الصغیر ء للإمام جلال الین
عبدالرحمن بن أبی بکر السیوطی (ت ۰۹۱۱)ء جمع وترتیب الشیخ
یوسف النبھانی ء دارالفکر ء بیروت ء الطبعة الأولیٰ ٣٤٤ ١ہ۔ ٢۲۰۰م
الاستیعاب فی معرفة الأصحاب ء لأبی عمر یوسف بن عبدالله بن محمد
بن عبدالبرٌ القرطبی (ت )۰٦٤٥٥ تحقیق وتعلیق الشیخ علی محمد معوض
و الشیخ عادل اأحمد عبدالمو جودہ دارالکتب العلمیة ء بیروت ء الطبعة
الثانیة ٥٢ ١٢٤ ٢۰۰٣م
الصواعق المحرقة فی الرْذٌ علی أھل البدع والزندقة ء للمحدث اُحمد بن
حجر الھیتمی المکی رحمة الله عليه (ت ٤ ۹۷)ء الئوریە الرضویه ببلشنكك
کمبنی لاھورہ الطبعة الأولی ٣٤٤ ١ہ۔ ٢۲۰۱م
الجامع الصحیح ء وھو سُنن الترمذی للامام ابی عیسی محمد بن عیسیٰ
(ت۵۲۷۹)تحقیق محمود محمد محمود حسن نصارء دارالکتب
العلمیةء بیروت الطبعة الأولیٰ ١٤٤ ١١-٢٠٢٠٣م
الفقہ الاکبر مع شرحه للقاری للامام الاعظم أبی حنیفة النعمان بن ثابت
اطع جو سی رفا عل جس مل رکب
العلمیةء بیروت
بارہ امامء تصنیف مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمة الله عليهء ترجمه و
تدوین : ابوالطیب محمّد شریف نقشبندیء ناشر : سنی دارا لاشاعت
لاھور
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ء للکاسانیء علاؤ الدین أبی بکر بن
مسعود الحنفی (ت۰۰۸۷٦)تحقیق وتعلیق علی محمد معوض وعادل
اُحمدہ دارالکتب العلمیة ء بیروت ء الطبعة الأولیٰ ٦١۸ ۱٥٣۔۱۹۹۷ء
تفسیر الطبری المسمی جامع البیان فی تأویل القرآنء لأبی جعفر محمد
(٥۱۱٢٥ ۴۱۲ ۱۷۷۰۷۴ یا]ہہ8
1
خلاصٍة النقحاتِ البَاجرٰۃ فی جواز القولِ بالححمسة الطُاھرة 38
بن جریر طبری (ت ٣٣۳)ءدارالکتب العلمیةء بیروت الطبعة الرابعة
٦ھ۔ ٢۲۰۰م
تاریخ بغداد مدینة السّلام ءللامام أبی بکر أحمد بن علی الخطیب
البغدادی (ت٥٥٥٥)دارالفکر ء بیروت ء الطبعة الأولیٰ ٦٤ ٤ ١١۔ ٢٢٠۲م
تفسیر البیضاوی (أنوار العنزیل وأسرار التأویل)للامام ناصر الدین أبی
الخیر عبدالله بن عمر بن محمد الشیرازی الشافعی البیضاوی (ت ۹۱١٦٢)ء
دارإحیاء التراث العربیء بیروت الطبعة الأأولیٰ ١٦١۸ ۱۱۔۱۹۹۸ء
سُنْن أبی داؤدہ للامام سلیمان بن اأشعث السجستانی (ت٥۰۲۷)ء تعلیق
عبید الدعاس وعادل السیّدء دارابن حزمء بیروت الطبعة الأولیٰ ٦١ ١ہ
۷ء
سیّدة نساء اُھل الجنة فاطمة الژھراء او إتحاف السائل بما لفاطمة من
المناقب للعلامة محمد عبدالرؤف بن علی بن زین العابدین المناوی
(ت ٣۱۰۳)ء تحقیق و تعلیق الشیخ علی اأحمد عبد العال الطھطاویء
دارالکتب العلمیةء بیروتء الطبعة الثانیة ٤-٦١٥ ١٤٤ ٢۰٠م
الشذرات الذھبیة فی تراجم الأئمة الأئنی عشر عند الإامامیة لابن طولونء
العلامة محمد بن طولون الدمشقی (ت٥٥ ۹)ء تحقیق اکتد کتورۃ
مدیحة الشرقاوی؛ مکتبة الثقافة الدینیةء القاھرة ء الطبعة ٥٢٤ ١ہ۔
7د
شرح الفقه الاکبر؛ للامام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود
الحنفی السمرقندی (ت٣۳۳)ء الرحیم اکیڈمیء کراتشی
صحیح البخاری؛ للامام محمد بن إسماعیل الجعفی (ت ٢٥٥٢)ء
دارالکتب العلمیة ء بیروت ء الطبعة الأولیٰ ١١٤ ١٦۔ ۱۹۹۸ء
سض سل لااہاممسلم ہن ال خچاج القشیری التسیابوری
5]٦٤]ہ5:/3۲۲ا۱۷۲۰۶۲۱١/۸۰۱۲3[ا5/)0020131[ااتن3۹30131131
خلاصِة الْفَحات البَاجِرَۃ فی جُواز القولِ بالحمسة الطاھرة 39
1
رہہ .نے ہەط10605ط .1طد درصں ج2// : ۹ط
خلاصِةً القحَاتِ البَاجِرَۃ فی جَواز القّولِ بالحمسة الطاھرة
(ت ٢٦۲ف)ءدارالکتب العلمیة ء بیروت
فواتح الرٴحموت شرح مسلم الثبوت, للعلامة عبد العلی محمد بن نظام
الدین الأنصاری الھندی (ت ٥ ۲٢۱۲)ء دارإحیاء التراث العربیء بیروتء
الطبعة الأولیٰ ٣١۸ ۱۹۹۸-۱۱ء
فتح الباری شرح صحیح البخاری ءللامام الحافظ اُحمد بن علی بن حجر
العسقلانی(ت ٥٢۸۰)ء دارالکتب العلمیة ء بیسروتء الطبعة الشالئة
۱ھ ۔ ٢٠۲۰م
کتاب الأربعین فی مناقب أُمھات المؤمنین ء لأبی منصور عبدالرحمن بن
عساکر (ت ٥٥٦٢)ءتحقیق وتعلیق محمد احمد عبدالعزیزہ مکتبة التراث
ااإاسلامی 07 القاھرة
)61ا٥٤١ ۴١۱٢ ۱۷۲۴۷١ 8:ەہہا٥ی
5]٤]ہ:/3۲۲۱۷۵۰۶۲۱۸/۸۰۲3٠۱۹/)002013[اات 3۹3131131۱
40